انتخابی مہم اور بائیں بازو کی جماعت کی شکایت

فاروق طارق نے افسوس کا اظہار کیا کہ کمرشل میڈیا نے ان کی جماعت کی انتخابی سرگرمیوں کو نظر انداز کردیا ہے

پاکستان میں ہونے والے انتخابات میں بائیں بازو کی جماعت سے تعلق رکھنے والے امیدوار میدان میں ہیں اور ملک کے مختلف حصوں سے انتخابی مہم چلارہے ہیں تاہم ان امیدواروں کو یہ شکایت ہے کہ ذرائع ابلاغ ان کی انتخابی مہم کی کوریج نہیں کررہا ۔

بائیں بازو کی تین جماعتوں کے آپس میں ضم ہونے کے بعد اب ایک ہی جماعت یعنی عوامی ورکرز پارٹی کے پیلٹ فارم سے امیدوار میدان میں اترے ہیں۔

عوامی ورکرز پارٹی کے سیکرٹری جنرل طارق فاروق وسطی پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ سے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مالی مسائل کی وجہ سے ان کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنی جماعت کی طرف سے انتخابی اشتہارات شائع یا نشر کراسکیں جبکہ دوسری طرف میڈیا بھی ان کی سرگرمیوں کو نظر انداز کررہا ہے ۔

بائیں بازو کی جماعت دس سال بعد انتخابی میدان میں اتری ہے کیونکہ سال دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں بائیں بازو کی جماعتوں نے وکلا تحریک کی وجہ سے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔

عوامی ورکرز پارٹی کے امیدوار فاروق طارق کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کا منشور دیگر جماعتوں کے منشور سے مختلف ہے کیونکہ ان کے منشور میں دفاعی بجٹ کم کرنے ، بیرون قرضوں کے آڈٹ، اقلیتوں اور خواتین کے حقوق اور مذہب کی بیناد پر امتیازی سلوک جیسے معملات پر بات کی گئی لیکن میڈیا ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی۔

فاروق طارق نے افسوس کا اظہار کیا کہ کمرشل میڈیا نے ان کی جماعت کی انتخابی سرگرمیوں کو نظر انداز کردیا ہے اور انہیں کوئی کوریج نہیں مل رہی۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا کے مطابق ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مولوی انتخاب لڑرہے ہیں یا پھر دائیں بارزو کی جماعتیں ہیں۔

عوامی ورکرز پارٹی کے عہدیدار کے بقول بائیں بازو کی جماعتوں کا نام نہیں لیا جارہا۔

فاروق طارق نے بتایا کہ ان کی جماعت کسی امیدوار یا عہدیدار کو کسی ٹی وی ٹاک شو میں جگہ نہیں دی گئی۔

ڈیلی ٹائمز کے مدیر راشد رحمان اس بات سے تو اتفاق کرتے ہیں کہ پاکستان میں بائیں بازو کی جماعتوں کی خبریں اس طرح نشر یا شائع نہیں ہوتی جس طرح دیگر جماعتوں کی خبروں کو میڈیا میں جگہ ملتی تاہم ان کا کہنا ہے کہ میڈیا اور بائیں باوز کی جماعتیں دونوں ہی اس کی ذمہ دار ہیں۔

راشد رحمان کے مطابق وقت گرزنے کے ساتھ لفٹ ( بائیں بازو) کسی حد تک کمروز ہوا ہے اور اسی وجہ سے میڈیا ان کو اہمیت نہیں دیتا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ میڈیا کا قصور نہیں کیونکہ ذرائع ابلاغ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ صرف بڑی سیاسی جماعتوں کی نہیں بلکہ تمام سیاسی منظر کی تصویر کشی کرے۔

انہوں نے تجویز دی کہ بائیں بازو کو اپنی صورتِ حال دیکھتے ہوئے ایسی سرگرمیاں کرنی چاہیے جن کو میڈیا میں کوریج ملے۔

عوامی ورکرز پارٹی کے فاروق طارق نے بتایا کہ انہوں نے اپنی انتخابی سرگرمیوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا ہے ۔ ان کے بقول وہ اپنی تمام دن کی انتخابی سرگرمی کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کرتے ہیں اور وہاں ان کی اچھی خاصی پذیررائی ہو رہی ہے۔

Advertisements
Posted in Uncategorized | Leave a comment

Veena’s ‘Silk’ moments

 

Veena Malik performing live at music launch of 'Silk' PHOTO: VEENA MALIK FACEBOOK PAGE Veena Malik performing live at music launch of 'Silk' PHOTO: VEENA MALIK FACEBOOK PAGE Veena Malik performing live at music launch of 'Silk' PHOTO: VEENA MALIK FACEBOOK PAGE Veena Malik at the music launch of 'Silk' PHOTO: VEENA MALIK FACEBOOK PAGE Veena Malik performing live at music launch of 'Silk' PHOTO: VEENA MALIK FACEBOOK PAGE Veena Malik at the music launch of 'Silk' PHOTO: VEENA MALIK FACEBOOK PAGE Veena Malik at the music launch of 'Silk' PHOTO: VEENA MALIK FACEBOOK PAGE Veena Malik performing live at music launch of 'Silk' PHOTO: VEENA MALIK FACEBOOK PAGE Veena Malik performing live at music launch of 'Silk' PHOTO: VEENA MALIK FACEBOOK PAGE Veena Malik performing live at music launch of 'Silk' PHOTO: VEENA MALIK FACEBOOK PAGE Veena Malik performing live at music launch of 'Silk' PHOTO: VEENA MALIK FACEBOOK PAGE

Veena Malik kicks off with a music launch for her debut Kannada movie Silk Sakkath Hot

Posted in Uncategorized | 1 Comment